بدھ 22 جولائی 2026 - 15:05
حریدی یہودی رہنما: اسرائیلی فوج کی جنگیں قتل عام کے مترادف ہیں

حوزہ/ حریدی مذہبی رہنما ربی داو لینڈو نے اسرائیلی فوج کی جنگوں کو "قتل عام" قرار دیتے ہوئے فوجی بھرتی کی سخت مخالفت کی، جس کے بعد اسرائیلی حکومت اور حریدی مذہبی حلقوں کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے قدامت پسند حریدی مذہبی رہنما ربی داو لینڈو نے صہیونی حکومت کی فوجی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جنگیں دفاع کے لیے نہیں بلکہ "قتل کے مترادف" ہیں

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی عزت و وقار کے نام پر فوجیوں کو میدان جنگ میں بھیجتی ہے تاکہ وہ انسانوں کو قتل کریں، حالانکہ یہ عمل کسی بھی صورت جائز نہیں اور قتل کی ترغیب دینے کے برابر ہے۔

ربی لینڈو کے اس بیان پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فوج میں خدمات انجام دینے والے مذہبی، سیکولر اور حریدی اہلکار اسرائیل کے دفاع کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں اور وہ معاشرے کے مکمل احترام اور حمایت کے مستحق ہیں۔

اس کے جواب میں حریدی جماعت دِگل ہتوراہ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ وہ ان کے روحانی پیشوا کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔ جماعت نے اپنے بیان میں کہا کہ دینی علماء کے اقوال ان کے پیروکاروں کے لیے انتہائی مقدس حیثیت رکھتے ہیں اور جو لوگ ان کی فکر کو نہیں سمجھتے، انہیں ان کے بیانات پر حملہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق، ربی لینڈو نے رواں ماہ کے آغاز میں حریدی طلبہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسرائیلی فوج کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں اور فوجی بھرتی کے نوٹس نظر انداز کر دیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ماضی میں دینی مدارس کے طلبہ کو فوجی خدمت سے استثنا حاصل تھا، لیکن اسرائیلی سپریم کورٹ نے اس چیز کو ختم کر دیا ہے۔ ان کے بقول عدالت نے دینی طبقے کے خلاف عملی طور پر جنگ چھیڑ دی ہے، اس لیے حریدی برادری کو اسرائیلی فوج سے تعاون نہیں کرنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha